مستقبل کے بارے میں درست پیش گوئیاں

مستقبل بین این پیئرسن کی 85 فیصد پیش گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں اور اب انہوں نے 2045ء کے بارے میں کچھ باتیں کی ہیں کہ 20 سال بعد دنیا کے بارے میں ہماری کیا توقعات ہو سکتی ہیں۔

لاہور: (دنیا نیوز) پیئرسن نے ایک تعمیراتی ادارے ہیوڈن کے ساتھ رپورٹ تیار کی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ تعمیراتی صنعت میں اگلے 30 سال میں کیا ہو سکتا ہے۔ روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت کے شعبوں کے سامنے آنے کے ساتھ شہری عمارتیں زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کی حامل ہوں گی۔ اس رپورٹ میں جو سب سے دلچسپ پیش گوئیاں کی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ عمارت میں رہنے والے ایک دوسرے سے بات بھی کر سکیں گے اور مختلف کاموں کا کہہ بھی سکیں گے۔ جیسا کہ اندر کا درجہ حرارت تبدیل کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں بڑھتی ہوئی طلب اور زمین کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ انتہائی بلند عمارتوں کا رجحان بڑھ جائے گا تا کہ گھر کی قیمتوں کو کم اور درمیانے درجے کی آمدنی رکھنے والے افراد کی دسترس میں لایا جا سکے۔ یہ عمارتیں چھوٹے شہر کی مانند کام کریں گی جس میں رہائش اور کام کے دونوں مقامات ہوں گے۔ آپ کو شاید ’’بیک ٹو دی فیوچر 2 ‘‘ کا وہ منظر یاد ہو کہ جس میں مارٹی کا مستقبل کا گھر ایک ایسی کھڑکی کا حامل تھا کہ جو کسی بھی منظر کو تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ مستقبل میں عمارتوں میں کھڑکیاں نہیں ہوں گی بلکہ ان کی جگہ ورچوئل ریالٹی سکرینیں نصب ہوں گی۔ شمسی کوٹنگ کا انحصار اس بات پر ہے کہ نینو ٹیکنالوجی کتنی ترقی کرتی ہے کہ وہ ایسی انتہائی چھوٹی چیز تیار کر سکے جو سورج کی روشنی کو جذب کرکے اسے توانائی میں بدل سکے لیکن اس کا امکان ہے کہ آپ سپرے کریں اور وہ جگہ شمسی توانائی حاصل کرنے والی بن جائے۔ گھر، دفتر یا عمارت کو گرم اور ٹھنڈا رکھنا ہو یا اس میں روشنی کا انتظام آپ کے حکم کے مطابق چلے گا یا پھر آپ کے لیے اس بات کو جان کر کہ آپ کے لیے کتنا درجہ حرارت اور کتنی روشنی اس وقت مناسب ہے۔ آپ نے ہو سکتا ہے دیکھا ہو۔ جاپان کے ادارے پیناسونک نے ایک ایسا روبوٹک لباس تیار کیا ہے جو بڑی اور بھاری چیزوں کو اٹھانا آسان بناتا ہے۔ یہ آئرن مین لباس انسانوں کے لیے بہت سارے کاموں کو آسان بنا سکتا ہے اور رپورٹ بتاتی ہے کہ مستقبل میں تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والوں میں ایسے روبوٹک لباسوں کا استعمال عام ہوگا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مستقبل میں کئی منصوبوں پر روبوٹ انسانوں کے شانہ بشانہ کام کریں گے بلکہ جن کاموں میں دھماکے یا تباہی کا خطرہ ہو وہاں یہ کام مکمل طور پر روبوٹس کے ہاتھوں میں ہوں گا۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ تعمیراتی شعبے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ اس صورت میں بہت تیزی سے ترقی کرے گی جب کنکریٹ کی نئی شکل سامنے آئے گی۔

By arrangement with Dunyanews.com

You May Also Like